’پاکستانی تاریخ کاپہلا کامیاب لانگ مارچ – ‘ربیعہ کی ڈائری

ربیعہ باجوہ ایک اکتیس سالہ وکیل ہیں۔ وہ دو ہزار چھ میں لاہور ہائی کورٹ بار کی کم عمر ترین فنانس سیکرٹری منتخب ہوئی تھیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی صدر جنرل مشرف کے ہاتھوں معطلی کے بعد ہونے والے احتجاج میں ربعیہ شروع سے شامل رہی ہیں۔

 

 

 نو جون سے شروع ہونا والا لانگ مارچ کا قافلہ تیرہ جون کو کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا جب روالپنڈی کی حدود میں داخلہ ہوا تو فضا ’گو مشرف گو‘ ، ’ہم لے کر رہیں گے آزادی‘ اور ’ آزاد عدلیہ بحال کرو‘ کے نعروں سےگونج اٹھی۔

آٹھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد جب ہمارا جلوس لیاقت باغ سے شاہراہ دستور پر پہنچا تو پنڈال سمیت سڑک پر تاحد نظر لوگوں کا جم غفیر تھا۔ وکلاء کتبے اٹھائے اپنی تحریک کی کامیابی کے لیے دمکتے چہروں کے ساتھ پارلیمان کی عمارت کے قریب موجود تھے۔

جب لانگ مارچ کےسلسلہ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تقاریر کا آغاز ہوا تو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے دھرنا نہ دینے کا کہا جس پر پنڈال میں موجود لوگوں نے اس بات کا مثبت تاثر نہ لیا اور اسی وقت وکلاء نے اپنی قیادت سے امید لگالی کہ وہ خود اپنا لائحہ عمل ترتیب دیں گے اور سینچر کوہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کو ایک بدلے ہوئے پاکستان کا احساس دلائیں گے اور یہ پیغام دیں گے کہ سیاستدان بھی اپنا رویہ تبدیل کریں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے پارلیمان کو حیقیقی معنوں میں مقتدر بنائیں ۔ اپنے ساتھیوں کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر مجھے بھی پہلی بار تھکاوٹ اور بے سمتی کا احساس ہوا۔ جہاں وکلاء لانگ مارچ کی کامیابی سے پرجوش تھے وہیں پر انہیں تقریب کے اختتام پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہوئے پایا گیا کہ ہماری یہ عظیم جدوجہد سٹیٹس کے حامل سیاست دانوں کے ذریعے ہائی جیک تو نہ ہوجائے گی ؟

میرا یہ خیال ہے کہ اگر یہاں پر صرف تقاریر کا اہتمام کرنا مقصود تھا تو اس کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وکلاء کنونشن ہی کافی تھا اور اس سخت موسم میں ایک طویل اور پر مشقت لانگ مارچ غیرضروری تھا اور یہ گمان ہورہا تھا کہ اتنا بڑا ایونٹ بغیر کسی ہوم ورک کے کیا گیا ہے۔

بہرحال پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا کامیاب لانگ مارچ تھا جوکسی حکومت کی برطرفی کے لیے نہیں بلکہ ارکان پارلیمان کو ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے کیا گیا ہے۔

جہاں میرے ساتھی وکلاء نے دھرنا نہ دینے کے فیصلے پر اپنی قیادت سے دوٹوک اختلاف کیا وہیں پر اپنی تحریک جاری رکھنے کے لیے ان کے حوصلے ہمالیہ جیسے بلند تھے۔

الصبح میں اور میرے ساتھی سپریم کورٹ کی عمارت کو دیکھتے ہوئے اس یقین کے ساتھ گھروں کو لوٹ آئے کہ ہماری باصلاحیت قیادت جس نے تحریک کے دوران لازوال قربانیاں دی ہیں، تمام خدشات کو دور کرے گی اور بقول اعتزاز ’عدل کے ایوانوں میں اصلی منصف پھر آئیں گے‘۔

3 Comments

Filed under Democracy, Politics

3 responses to “’پاکستانی تاریخ کاپہلا کامیاب لانگ مارچ – ‘ربیعہ کی ڈائری

  1. I was listing an interview of Aitzaz Ahsan in a talk show, interesting interview related to Long march
    http://www.friendskorner.com/forum/f137/kal-tak-15th-june-2008-aetizaz-ahsan-50038/

  2. Long March Who Loses& Who Wins???

    STARTING FROM 09 MARCH,2007 TILL 15JUNE,2008 THE JUDICIARY STRUGGLE AT LAST SHOWED ITS RESULTS IN ISLAMABAD IN THE FORM OF LONG MARCH.

    Many things have been exposed with the anti-climax of this long march in islamabad.If i can summarize this a more than year long judiciary movemnet in simple words i would like to say that its a defeat of the right wing parties like jamat e islami,thereek e insaaf with apdm,ex-service men society,pml n,civil society and others and its the victory of the masses and the ppp with their stand on the judicairy movement.

    I have analysed its different aspects and its now a eye-opener to all of us that this long march was just againts the ppp and its government which ultimately failed as pakistani masses damn care for the so called judiciary long march and they are keen just for their related issues like,price hikes,electricity crisis,fuel crisis,poverty,job cuts,health care facilities and others.

    Now its clear that it was the agenda of the right wing parties to support this long march to shift the attention of the masses to a non-issue from the real masses issues.Now things have been exposed very clearly as even the right wing media criticise the ex-ch-jus for coming*speaking at the long march rallies.They took him critical in this behaviour.

    Now we must tell the people that the last day pml n was in contact with ppp&they had signed the code of conduct that they will not prolong this long march and ultimately they will just go back after the speeches,but they were pretending as some one else did it,so ultimately it was the pml n whom gave a bad name to this judiciary long march and even they agreed to the restoration of ex judges with the present ones in the Finance Bill Resolution.

    So what a pity again that this right wing media is not criticizing pml n and this showed their hegemony.So we have to blame the exposed parties and we must criticize them for their worst miseries and giving bad name to the judiciary&to some important lawyers whom were leading this movement and now the time has come that even ch-Aitzaz Ahsan should re-think as his allies have come against him openly and he should remember that this is the lesson of the history that facist&liberals cant go in one track.

    Aitzaz should come openly and should expose this right wing parties and their worst miseries.

  3. Tania

    I think it was all fraud. No one is really interested in real issues and game of scoring numbers is on. This is most unfortunate for common citizen of this Pakland.