Daily Archives: June 15, 2008

Restoring the civil rights of Ahmadis

By a Pakistani

The events in Punjab Medical College in Faisalabad recently have brought to the forefront once again a very important and yet neglected issue which continues to blacken our collective conscience as a nation.   The expulsion of 23 students for allegedly preaching their faith underscored the sickness that has crept into the majority in this country bringing bad name to the country and the faith of Islam as well. There is need for serious inquiry as to whether this pathetic state of affairs will be allowed to continue and will the Ahmadis continue to be the victims of Pakistan’s version of Jim Crow Laws aided and abetted by a PC0-ed judiciary passing numerous “Dredd Scott” like decisions.

The persecution of Ahmadis even under the present mangled constitution is patently unconstitutional.  A fair court of law would have noticed and pounced on the Ahmadi-specific legislation that has crept into our statute books for every single one of these laws violate a couple dozen fundamental rights accorded to the citizens of Pakistan not the least Article 20 which gives every citizen the right to practice and propagate his or her religion without any caveats.  The rot however began with Bhutto’s 2nd Amendment which declared Ahmadis Non-Muslim. His law minister, Mr. Abdul Hafeez Pirzada, proved himself to be a poor constitutional lawyer when he declared that the National Assembly was sovereign and could take such a step.   The correct legal position was that of Sir Zafrullah Khan, erstwhile Pakistani foreign minister and one of the authors of the Lahore Resolution, who argued that it was beyond the scope of the National Assembly to determine the faith of an individual especially under the Constitution of 1973.  Even the Islamic provisions of the constitution of 1973 were to be interpreted according to each sect’s understanding and Ahmadis being an established Muslim sect in 1973 were entitled to their own interpretation of the Quran and Sunnah. Continue reading



Filed under Citizens, culture, human rights, minorities, Pakistan, Religion, Rights, Society

’پاکستانی تاریخ کاپہلا کامیاب لانگ مارچ – ‘ربیعہ کی ڈائری

ربیعہ باجوہ ایک اکتیس سالہ وکیل ہیں۔ وہ دو ہزار چھ میں لاہور ہائی کورٹ بار کی کم عمر ترین فنانس سیکرٹری منتخب ہوئی تھیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی صدر جنرل مشرف کے ہاتھوں معطلی کے بعد ہونے والے احتجاج میں ربعیہ شروع سے شامل رہی ہیں۔



 نو جون سے شروع ہونا والا لانگ مارچ کا قافلہ تیرہ جون کو کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا جب روالپنڈی کی حدود میں داخلہ ہوا تو فضا ’گو مشرف گو‘ ، ’ہم لے کر رہیں گے آزادی‘ اور ’ آزاد عدلیہ بحال کرو‘ کے نعروں سےگونج اٹھی۔

آٹھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد جب ہمارا جلوس لیاقت باغ سے شاہراہ دستور پر پہنچا تو پنڈال سمیت سڑک پر تاحد نظر لوگوں کا جم غفیر تھا۔ وکلاء کتبے اٹھائے اپنی تحریک کی کامیابی کے لیے دمکتے چہروں کے ساتھ پارلیمان کی عمارت کے قریب موجود تھے۔

جب لانگ مارچ کےسلسلہ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تقاریر کا آغاز ہوا تو مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے دھرنا نہ دینے کا کہا جس پر پنڈال میں موجود لوگوں نے اس بات کا مثبت تاثر نہ لیا اور اسی وقت وکلاء نے اپنی قیادت سے امید لگالی کہ وہ خود اپنا لائحہ عمل ترتیب دیں گے اور سینچر کوہونے والے بجٹ اجلاس کے دوران دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کو ایک بدلے ہوئے پاکستان کا احساس دلائیں گے اور یہ پیغام دیں گے کہ سیاستدان بھی اپنا رویہ تبدیل کریں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے پارلیمان کو حیقیقی معنوں میں مقتدر بنائیں ۔ اپنے ساتھیوں کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر مجھے بھی پہلی بار تھکاوٹ اور بے سمتی کا احساس ہوا۔ جہاں وکلاء لانگ مارچ کی کامیابی سے پرجوش تھے وہیں پر انہیں تقریب کے اختتام پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہوئے پایا گیا کہ ہماری یہ عظیم جدوجہد سٹیٹس کے حامل سیاست دانوں کے ذریعے ہائی جیک تو نہ ہوجائے گی ؟ Continue reading


Filed under Democracy, Politics