This is a rather strongly worded piece authored by a concerned Pakistani based abroad. Whilst I do not agree with all the contents of this article, it surely is ‘another’ view of the ongoing GEO TV saga! In light of Pak Tea House’s efforts to promote debate and air unfashionable views, we are posting this piece. (Raza Rumi)
پاکستان کے اندر اور بیرون پاکستان “ جیو ٹیلیویژن “ کی نشریات پاکستانیوں میں خوب دیکھی جاتی ہیں لیکن “ جیو ٹی وی “ کی ان نشریات میں پیش کِیا کیا جاتا ہے اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہوتے ہیں یہ اندازہ شاید ہی کسی نے لگایا ہو ۔ اندرون پاکستان ‘ جیو ٹی وی کی نشریات پر حساس ناظرین اپنے خدشات کا اظہار تو کرتے ہی رہتے ہیں اب بیرون ملک بھی “ جیو ٹی وی “ کی نشریات پر “ پاکستانی ناظرین “ کے تحفظات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ لیکن کیوں؟
آئیے دیکھتے ہیں کہ جیو ٹی وی کی ابتدا کیسے ہوئی اور اس کی وہ نشریات جنہیں یہ ادارہ “ قومی مفادات اور شعور ملی کی بیداری کے لیے پیش کرنے “ کا دعویٰ کرتا ہے ‘ اِن نشریات کا دوسرے ٹی وی اداروں کی نشریات سے موازنہ کیا جائے کہ جیو ٹی وی ‘ کہاں تک “ ملی مفادات اور قومی شعور کی بیداری کے لیے متحرک ہے ۔“
یہ بات تو بالکل ڈھکی چھپی نہیں کہ جیو ٹی وی‘ امریکی امداد سے شروع کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد مایوسیوں ‘ ناکامیوں اور محرومیوں کو یوں سامنے لانا تھا کہ عوام بحیثت پاکستانی قوم خود کو اور اپنے ملک کو “ ناکامیوں ‘ مایوسیوں اور محرومیوں کے گرداب سے کبھی باہر ہی نہ نکال پائیں ۔ پاکستان کی پچاس فیصد ان پڑھ آبادی جیو ٹی وی کی ان نشریات کو “ انکشافات “ سمجھتے ہوئے اپنی بے خبری کی وجہ سے انہیں حقیقت مان لیتی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی عہدیدار یہاں تک کہ امریکی ٹی وی نشریاتی ادارے پاکستان کے بارے میں صرف ‘ جیو ٹی وی ہی کا حوالہ دیتے ہیں دوسرے آزاد ٹی وی اداروں کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا ؟ جیو ٹی وی کی نشریات ہی میں لوگوں کے سر کٹے دھڑ ‘ بموں میں مرتے ہوتے ہوئے ملبوں میں دبے ہوئے لوگوں کو دکھایا جاتا ہے ۔ کیا دنیا کا کوئی اور ٹی وی ‘ ایسے مناظر اتنے تسلسل سے دکھاتا ہے ؟ ذرا سوچیئے بھارت میں کم و بیش دو ہزار مسلمانوں کو گجرات میں تین ماہ کے اندر قتل کردیا گیا ان کی املاک تباہ اور نذر آتش کردی گئیں لیکن وہاں کے ٹیلیویژن اداروں نے ان وارداتوں کی دستاویزی نشریات کہاں دکھائیں ۔ کیا مسلمانوں کے اس قتل عام کے بارے میں ذی ٹی وی ‘ سونی ٹی وی اور دیگر انڈین ٹی وی چینلز نے کوئی نشریات پیش کیں ؟ بھارت میں اس وقت آسام و بہار سے لے کر پنجاب اور کشمیر تک کم سے کم اٹھانوے علیحدگی پسند تحریک متحرک ہیں کیا کبھی ذی ٹی وی ‘ سونی ٹی وی نے ان کی لڑائیوں اور مارے جانے والے بھارتی فوجیوں اور سیکورٹی والوں کی کوریج کی ہے ؟ کیا کبھی بھارتی چینلوں نے بھارت کے ڈھائی سو ملین لوگوں کو گلیوں میں فٹ پاتھوں پر ریلوے کی لائینوں کے اردگرد سوتے دکھایا ہے ؟
اسلام آباد میں لال مسجد کاواقعہ جیو ٹی وی کے نشریاتی پروگراموں میں اب تک سر فہرست ‘ بینر کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ کتنے بھارتی ٹی وی ہر روز ‘ گولڈن ٹمپل پر حملے ‘ اندرا گاندھی کے قتل ‘ بابری مسجد کے انہدام ‘ گجرات و بہار کے مسلمانوں کے قتل عام ‘ راجیو گاند ھی کے قتل اور اسی طرح کے دوسرے واقعات کی کلپ فملیں اپنےآغاز پروگرام میں دکھاتے ہیں کیا آپ نے کبھی بھارتی سیاستدانوں کو ‘ اختلاف رکھنے کے باوجود اپنے صدر یا وزیر اعظم کے خلاف ‘ ٹی وی پینلز پر ‘ نازیبا زبان استعمال کرتے ‘ گالیاں دیتے اور کھلم کھلا اُن کے لیے موت ‘ پھانسی اور جلاوطنی جیسی سزائیں تجویز کرتے سنا ہے ؟ جیو ٹی وی پاکستان میں پاکستانی سیاستدانوں کے ایسے بیانات سنا رہا ہے آخر کیوں ؟ صحافت کا اپنا ضابطہ اخلاق کس گنگا میں بہا دیا گیا ہے جیو ٹی وی ‘ بے نظیر بھٹو‘ آصف زرداری اور ان جیسے دوسروں کی اس دولت کے بارے میں دستاویزی پروگرام نشر کیوں نہیں کرتا بحث مباحثے کیوں نہیں کراتا‘ جو دولت انہوں نے اپنے دور میں قومی خزانے سے لوٹی ۔ بیرون ملک بنک بیلنس بنائے ‘ محل خریدے ؟ نواز شریف اور خود سابق چیف جسٹس کی کارستانیوں سے پردہ کیوں نہیں اٹھایا؟ اب کچھ جیو ٹی وی کی مزید “ قومی خدمات “ کے بارے میں ۔ جیو ٹی وی نے نام نہاد ایمرجنسی کی جعلی خبریں یوں نشر کیں کہ ملک بھر میں سٹاک مارکیٹ کا جنازہ نکل گیا کیونکہ جیو کے نام نہاد اقتصادی ماہرین کو ہدایات ہی یہی تھیں کہ کیا کہنا ہے اور ملک میں اقتصادی افراتفری کو ہوا کیسے دینی ہے۔
کامران خالد ‘ پچیس لاکھروپے ماہانہ جیو ٹی وی سے کس بات کے وصول کرتے تھے ۔
ڈاکٹر شاھد مسعود ‘ “ این ایس ایف “ کے باقاعدہ رکن تھے ۔ این ایس ایف پاکستان کی بنیادی نظریئے اور اس کی سالمیت کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کی کٹر مخالف ہے ۔ یہ صاحب بائیس لاکھ روپیہ ماہانہ لیتے ‘ اور کراچی و دوبئی میں شاندار مکانات رکھتے ہیں ۔
حامد میر جیسے نام نہاد مبصر ‘ روزنامہ اوصاف کے مدیر کو بھی بھاری رقوم ادا کی گئیں اور نادیہ خان نے بھی پیسے بنائے ۔ مل ملا کر چھ لاکھ روپے ان آزاد صحافیوں کو دیئے گئے ۔ کیوں ؟
سوچا جا سکتا ہے کہ کرکٹ کا میچ نہ دکھا کر جیو ٹی وی نے خود بتایا کہ اسے ایک ملین روپے کا خسارہ ہوا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب چوبیس گھنٹے سابق جسٹس افتخار کی جو کوریج نشر کی جا رہی ہے اس کے اخراجات جیو والے کیسے اور کہاں سے پورے کر رہے ہیں ؟ ان
اخراجات کا ذرا تخمینہ تو لگا کر دیکھئے ۔ یہ تو سی این این ‘ بی بی سی بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔




















7 Comments
June 27, 2008 at 9:31 am
Having worked in that particular organization, I do know that there is a lot of emphasis on creating a particular slant to any news item of importance. I was too down the food chain to know if it was done at someone’s behest or they just like messing with news.
June 27, 2008 at 5:08 pm
Tazeen:
thanks for dropping by.Well as I said above, I am not in full agreement but there ought to be a debate and some measure of accountability of media as well…
June 28, 2008 at 12:48 pm
i am really sorry but can it b translated into english? i have not understood anything
June 29, 2008 at 10:25 pm
Typical Mullah propaganda. Can’t get them to agree with you, declare them traitor or vulgar or kafir. Problem solved.
June 30, 2008 at 8:19 am
Dr Shahid Masood , aakhir NSF ka daag apne rukh e roshan se or kis tarah utare, End of days se le kur General Hameed Gul , sub ki aawaz tu buna he wu. Jitni khidmat dr shahid masood ne Mansoora ki ki he ub tu usse maaf kur dein.
Islami NSF mein raha ho ga bechara lol
July 1, 2008 at 7:42 pm
hey !! can someone plz translate this in english..
thank u
July 1, 2008 at 9:40 pm
I had once read somewhere, that when Uncle Sam feels ‘forced to’ to be ‘invited’ to a new land (of opportunities or oil or whatever), they start a mass media campaigning using all means of media outlets (newspapers, radio and TV channels etc) most of which are in the local language(s) of that particular land and targeted at the people living in that land.
I remember reading about how Uncle Sam created a dozen (or was it half a dozen) radio and tv channels in Persian language when the plan to ’save’ Iran from becoming a nuclear state was made. I’ve not references, links whatsoever; and have no idea regarding the authenticity of the reports I read. They could have been as authentic as this particular article of Nasr Malik seems to be in the absence of any types of links, references and any other proofs.
The GEO might be funded by America, or India, or Israel or a it could be a joint venture of all the three. Who knows. World is full of conspiracy theories and who doesn’t love them?
But this is not the right way to ‘promote’ a conspiracy theory or to uncover a conspiracy.
In the absence of any shred of evidence in this piece of Nasr Malik , its hard to say how much of this could be true.
I also don’t think that the kind of images GEO shows may make people pessimistic. If people do lose hope by watching GEO, perhaps its their fault?
Why don’t they rise up and try to change things after watching a fellow countryman’s corpse on GEO?
The glass is half full.
And whether one adores Dr. Shahid, Hamid, Meer and Nadia Khan or opposes them, I do not feel interested in how much money they make or how many houses they have. What the writer said does not prove or disprove their honesty.
The writer claims that 50% of Pakistanis (illiterate masses) believe whatever GEO tells them. I wonder if even 25% of Pakistanis have TV sets in their homes. Most of the ones who do have a TV set, don’t own a cable subscrition and thus they can’t see anything but the state television channels.
Question: Should they start to believe what the Khabarnama/Sadarnama tells them?
But hey, I am not negating the possibility. It could turn out to be true if one tries to focus on finding evidence instead of counting homes owned by Dr. Shahid. An interested paper written by two RAND scholars comes into mind. I have not finished reading it but (as far as I can guess) the basic message it gives to US administration is that apart from, or instead of, using Realpolitik(military power, Machiavellian practices) it should focus on the new phenomenon of Noöpolitik (soft politics, in other words using the cyberspace immense information/propaganda dissemination potential to ‘change minds’).